فقہی وتربیتی ورکشاپ۔ ایک نظر میں

جدید فقہی موضوعات پر ورکشاپ:

اسلامک فقہ اکیڈمی(انڈیا) نے شروع سے اس بات کی کوشش کی کہ جن اصولی مسائل سے نئے مسائل کا حل متعلق ہو، ان کا گہرائی سے مطالعہ کیاجائے اور اہل علم کے درمیان ان پر بحث ومناقشہ ہو، اسی پس منظر میں اسلامک فقہ اکیڈمی(انڈیا) نے مقاصد شریعت پر ورکشاپ کا سلسلہ شروع کیا تاکہ ذہین نوجوان علماء اور اصحاب افتاء مقاصد شریعت پرموجود فقہی سرمایہ و ذخیرہ سے واقف ہوں، ان پر تحقیقی نظر ڈالیں، بحث مناقشہ کے ذریعہ اس موضوع کے مختلف مسائل اور گوشوں کو نکھارنے کی کوشش کریں اور تشنہ تحقیق پہلوئوں پر بحث و تحقیق کا عزم و ارادہ کریں۔

چنانچہ اکیڈمی نے مقاصد شریعت،اصول فقہ اسلامی اور جدید طبی مسائل جیسے موضوعات کے علاوہ عربی زبان کی تعلیم کے جدید طریقے و وسائل پر متعددورکشاپ منعقد  کیے جن میں ہند و بیرون ہند کے علماء اور اصحاب تحقیق بحیثیت محاضر شریک ہوئے۔ بیرون ملک سے شرکت کرنے والے اہم اصحاب میں ڈاکٹر عیاض بن نامی سلمی، ڈاکٹر محمد الشبل (سعودیہ)، ڈاکٹر علی محی الدین قرہ داغی (قطر)، ڈاکٹر صلاح سلطان (بحرین)، ڈاکٹر انور محمد الشلبی (مصر)، ڈاکٹر حسین الجبورتی، ڈاکٹر جاسر عودہ (قطر)،ڈاکٹر عمر والوردانی (مصر)، ڈاکٹر شدید البشری (سعودی عرب)، ڈاکٹر عادل بوراوی (مراکش) ، ڈاکٹر عبد العزیز حمید  جبوری (عرب امارات)، ڈاکٹر محمد علی (سعودیہ)، ڈاکٹر مجدی صلاح طہ مہدی (مصر)، ڈاکٹر ہاشم بن علی الاہدل (سعودیہ) وغیرہم قابل ذکر ہیں، ان پروگراموں میں ہندوستان کے مختلف مدارس و جامعات کے نوجوان فضلاء و علماء نے شرکت کی اور استفادہ کیا۔

 

فقہی وتربیتی ورکشاپ -ایک نظر میں

۲۰۰۳  تا   ۲۰۱۶ء

 

ورکشاپ

مقام

تاریخ

موضوع

پہلا

پسونڈہ، غازی آباد

۱-۳؍ ستمبر  ۱۹۹۲

دورہ تدریبیہ

دوسرا

بستی

جون ۱۹۹۳

دورہ تدریبیہ

تیسرا

پسونڈہ، غازی آباد

۲۲۔۲۵؍ ستمبر ۱۹۹۳

دورہ تدریبیہ

چوتھا

نئی دہلی

۲۱-۲۵؍دسمبر ۲۰۰۳ء

مقاصد شریعت

پانچواں

نئی دہلی

۱۹-۲۴؍نومبر۲۰۰۵ء

عربی زبان کی تعلیم

چھٹا

نئی دہلی

۱-۴؍دسمبر۲۰۰۵ء

مقاصد شریعت

ساتواں

نئی دہلی

۸-۱۲؍دسمبر ۲۰۰۶ء

فقہ الاقلیات

آٹھواں

حیدرآباد

۳-۴؍ فروری ۲۰۰۷ء

جدید طبی مسائل

نواں

لکھنؤ

۱۵-۱۶؍ مئی ۲۰۰۷ء

جدید طبی مسائل

دسواں

کالی کٹ

۲۷-۳۰؍جون ۲۰۰۷ء

فقہ الأقلیات

گیارہواں

پٹنہ

۷-۸؍جولائی ۲۰۰۷ء

جدید طبی مسائل

بارہواں

پٹنہ

۲۲-۲۴؍ جولائی ۲۰۰۷ء

مقاصد شریعت

تیرہواں

اعظم گڑھ

۲۵-۲۷؍ جولائی ۲۰۰۷ء

مقاصد شریعت

چودہواں

عمر آباد

۲۹؍ جولائی ۲۰۰۷ء

مقاصد شریعت

پندرہواں

شانتا پورم (کیرالہ)

۳۰-۳۱؍ جولائی ۲۰۰۷ء

مقاصد شریعت

سولہواں

حیدرآباد

یکم اگست ۲۰۰۷ء

مقاصد شریعت

سترہواں

نئی دہلی

۱۹-۲۳؍ جون ۲۰۰۸ء

عربی زبان کی تعلیم

اٹھارہواں

دیوبند

۲۱-۲۳؍ جون ۲۰۰۸

مقاصد شریعت

انیسواں

لکھنؤ

۲۸-۳۰؍ جون ۲۰۰۸ء

مقاصد شریعت

بیسواں

حیدرآباد

۵-۸؍ نومبر ۲۰۰۹ء

اصول فقہ اسلامی

اکیسواں

نئی دہلی

۱۸؍فروری ۲۰۱۰ء

اسلامی اقتصادیات اور عصر حاضر میں اس کی علمی اور عملی تطبیق

بائیسواں

اعظم گڑھ

۱۹-۲۰؍ جولائی ۲۰۱۱ء

التنمیۃ الفکریۃ

تئیسواں

لکھنؤ

۲۱-۲۲؍ جولائی ۲۰۱۱ء

التنمیۃ الفکریۃ

چوبیسواں

دیوبند

۲۳؍ جولائی ۲۰۱۱ء

التنمیۃ الفکریۃ

پچیسواں

نئی دہلی

۳۱؍ اگست تا ۴؍ ستمبر ۲۰۱۳

موجودہ مسائل اور تحقیق کی مہارت - الیکٹرانک و مطبوعہ مصادر و مراجع اور تطبیقی نمونے

چھبیسواں

حیدرآباد

۲۵-۲۸؍ جنوری ۲۰۱۴ء

تعلیم قرآن کے مناہج

ستائیسواں

نئی دہلی

۲۶-۳۰؍ نومبر ۲۰۱۵ء

موجودہ مسائل اور تحقیق کی مہارت - الیکٹرانک و مطبوعہ مصادر و مراجع اور تطبیقی نمونے

 

 

 

نوجوان فضلاء  مدارس کیلئے تربیتی کیمپس:

اکیڈمی کے منشور میں یہ بھی شامل ہے کہ نوجوان فضلاء کی تربیت پر خصوصی توجہ دی جائے، چنانچہ ۱۹۹۲ء میں غازی آباد(اترپردیش) میں، ۱۹۹۳ء میں بستی(اترپردیش) ، اور پھر غازی آباد(اترپردیش) میں،اور ۲۰۰۰ء میں دیوبند میں تربیتی کیمپ منعقد کئے گئے، جن میں بڑی تعداد میں دینی مدارس کے منتہی طلباء اور جدید فضلاء نے شرکت کی، ان تربیتی اجتماعات میں جہاں فقہ اور اصول فقہ سے تعلق رکھنے والے علماء نے اصول فقہ کے موضوع پر اہم محاضرات دیئے، وہیں جدید علوم کے ماہرین (خاص طور پر پروفیسر نجم الحسنؒ، جناب مقبول احمد سراج صاحب، پروفیسر اقبال احمد انصاریؒ، ڈاکٹر رحمت علی، ڈاکٹر اوصاف احمدؒ ، جناب عبد الرحیم قریشی ؒ، اسرار عالم، پروفیسر ابو الفضل عثمانی، پروفیسر شمیم انصاری، عبد الرشید اگوان وغیرہم) نے بھی عصری مضامین وعلوم کے تعارف وتاریخ اور اس کی ضرورت وافادیت پر محاضرات  دیئے، ۲۰۰۰ء میں ’’وقف اور اس کو ثمر آور کرنے کی صورتیں‘‘ کے موضوع پر دینی مدارس کے طلباء کا ایک مسابقہ دارالعلوم وقف دیوبند میں حضرت مولانا محمدسالم قاسمی صاحب کی صدارت میں رکھا گیا، اس مسابقہ میں چالیس طلبا ء شریک ہوئے۔ ان تمام پروگراموں میںحضرت قاضی مجاہد الاسلام قاسمیؒ،ڈاکٹر اسلم پرویز، پروفیسر اقبال انصاریؒ، حضرت مولانا عتیق احمد بستوی قاسمی، حضرت مولانا خالد سیف اللہ رحمانی، حضرت مولانا عبید اللہ اسعدی اور مفتی نسیم احمد قاسمیؒ وغیرہم بطور خاص مسلسل شریک رہے اور تمام پروگراموں کی افادیت، مقصدیت میں معنوی و علمی اضافہ کیا۔

اکیڈمی نے نئے اقتصادی مسائل ونظام پر المعہد العالی، پھلواری شریف پٹنہ اور المعہد العالی  الاسلامی، حیدرآباد میں اقتصادی محاضرات کا اہتمام کیا گیا اور اس سلسلہ میں ڈاکٹر اوصاف احمدؒ سے علمی مدد لی گئی، پھر عصری جامعات کے ممتاز اہل علم کے مختلف موضوعات پر محاضرات ندوہ، جامعہ عربیہ باندہ، جامعہ اسلامیہ بنارس، جامعۃ الفلاح، جامعہ اسلامیہ بستی، جے پور، گجرات، غازی آباد وغیرہ میں ہوئے۔

دو سالہ تربیتی کورس:

اکیڈمی نے فضلاء مدارس کے لئے ایک تربیتی پروگرام کا دو سالہ تربیتی کورس شروع کیا تھا، انٹرویو کے ذریعہ منتخب ہونے والے ان طلباء کو قیام و طعام کی تمام سہولیات کے علاوہ اسکالر شپ(وظیفہ) بھی دیئے گئے، دو سالہ کورس کے دوران انہیں مختلف موضوعات پر مطالعہ و تحقیق اور نئے مسائل کے حل کی تلاش و جستجو کی فکر دی گئی۔