Dr. Taha Jabir Alwani

Dr. Taha Jabir Alwani

‘‘فقہ اکیڈمی انڈیا میرے لئے کوئی اجنبی ادارہ نہیں، ہم نے حضرت مولانا مجاہد الاسلام قاسمی ؒاور دیگر علماء ہند کے ساتھ اس کی تشکیل و ترقی کے لئے کام کیا ہے، یہ اکیڈمی آغاز میں محض ایک تجویز تھی مگر دھیرے دھیرے وہ علماء کی توجہ، تائید اور شرکت سے ایک ادارہ بن گئی، اس کے پروگراموں میں شریک ہونے والے علماء میں سرفہرست شیخ ابو الحسن علی ندوی رحمۃ اللہ علیہ کا اسم گرامی قابل ذکر ہے۔

شروع سے ہی ہندوستانی مسلمانوں کو درپیش نئے فقہی مسائل، اشکالات اور شرعی امور کو حل کرنے کے لئے اس اکیڈمی کی تشکیل سے ہم نے اتفاق کیا اور  اس اکیڈمی کو کو ایسا نمونہ بنانے کی کوشش کی جس سے استفادہ یا جس کے نقش قدم پر چلنے کی کوشش دنیا کے ان ملکوں اور علاقوں میں بھی کی جاسکے جہاں مسلمان اقلیت میں ہیں اور وہ اپنے فقہی مسائل کو حل کرنے کے لیے کوئی نظام تشکیل دینا چاہتے ہیں تاکہ ایسے تمام ممالک جہاں مسلمان اکثریت میں نہیں ہیں وہاں اکیڈمی ان کی رہنمائی کا سبب بن سکے۔ یہ ایک ایسا اہم کام ہے جو آسان بھی نہیں کیونکہ یہ مہم ایک فقیہ کے اوپر یہ ذمہ داری عائد کرتی ہے کہ وہ اکیڈمی کے علمی وفقہی کاموں میں حصہ لے اور شریک ہو، خاص طور پر ان مسائل میں جو اس کے سامنے آئیں یا پیش کیے جائیں۔ فقیہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ ثقافتی، تہذیبی اور عمرانی تبدیلیوں اور اس کی کنہ سے پوری طرح آگاہ ہو۔ یہ تبدیلیاں فقہ اسلامی کے روشن عہد کے بعد پورے عالم پر محیط ہو گئیں جن کے نتیجہ میں نئی نئی شکلیں پیدا ہوئیں جو کم یا زیادہ بہرحال گزشتہ ادوار کے حالات سے مختلف تھیں۔ابن خلدون نے اپنے مقدمہ میں لکھا ہے : ‘‘جب حالات واحوال پوری طرح بدل جائیں تو سمجھ لیجئے کہ گویا پوری مخلوق اپنی اصل کے ساتھ بدل گئی، پوری دنیا میں تغیر آگیا، اور گویا کہ یہ نئی مخلوق ہے ، ایک نیاوجود ہے اورایک نئی دنیا ہے’’۔

چنانچہ یورپ اور امریکہ وغیرہ میں موجود فقہ اکیڈمیوں کے علماء وفقہاء میں ہر ایک کے لئے، جو اس فقہ کی ترتیب وصنعت میں اور لوگوں کے سوالات واستفسارات کے جواب دینے میں شریک ہے ، کے لئے ضروری ہے کہ اس کا علم انسائیکلوپیڈیائی ہو، اور رائج سماجی ومعاشرتی نظام وقانون کی واقفیت ہو، اور ساتھ ہی ساتھ قرآن کریم اور اس کے اعلی مقاصد یعنی توحید، تزکیہ، عمرانیات، اور امت ودعوت کا گہرا شعور ہو، اور غیر مسلم اکثریت کے امور ومعاملات کی بھی معلومات ہو جن کے درمیان مسلم اقلیتیں رہتی ہیں تو جس نے بھی اسے نہیں جانا یا اس سے اعراض کیا تو وہ فقہ الاقلیات کے میدان میں کوئی اہم چیز ہرگز پیش نہ کرسکے گا، لہٰذا فقہ سابق پر قیاس کی گئی فقہ، جو ممکن ہے خود ہی فقہ قیاسی ہو، فقہاء امت کے نزدیک قابل قبول نہیں ہے ، چنانچہ طے ہو گیا کہ فقہ اساسی کا مصدر قرآن مجید ہے ، ’’ان الحکم الا للّٰہ أمر ألا تعبدوا الا ایاہ....‘‘ (سورۂ یوسف: ۰۴)، اور اللہ تعالی کا ارشاد ہے : ’’الم تر الی الذین أوتوا نصیبا من الکتاب یدعون الی کتاب اللہ لیحکم بینہم ثم یتولی فریق منہم وہم معرضون‘‘ (سورۂ آل عمران: ۳۲)۔

اور سنت رسول ﷺ جو کتاب اللہ میں جو کچھ آیا ہے اس کی تطبیق ہے ، اور خود اس کا اور اس پر عمل کی کیفیت کا بیان اور اس کی وضاحت ہے ۔

معاصر فقیہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ لازمی طور پر واضح اور کھلی ہوئی دلیل کا اور اس کی صریح تطبیقات کا سہارا لے ، تاکہ قرآن پر اس کا عمل سنت نبوی سے ہم آہنگ ہو۔

اگر وہ ایسا کرلے تو اسے واقعات وحقائق کو اچھی طرح تطبیق دینے میں پوری طرح مہارت حاصل ہوجائے گی اور فقہ الواقع کا کوئی پہلو اس سے نہیں چھوٹے گا، چنانچہ ان تمام چیزوں پر توجہ دی جانی چاہئے ، تاکہ اس سے فقہی سوال نکل کر سامنے آئے ، اور تاکہ اس کا جواب ایسا ہو جو کتاب اللہ سے مستنبط ہو،’’واذا جائہم أمر من الأمن أو الخوف أذاعوا بہ ولو ردوہ الی الرسول والی أولی الأمر منہم لعلمہ الذین یستنبطونہ منہم، ولولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ لاتبعتم الشیطان الا قلیلا‘‘ (سورہ نساء: ۳۸)، اور فقیہ کے لئے نبیﷺ کی تطبیقی توضیح ان اہم سوالوں کا جواب دینے کے لئے وسیلہ ہے جو اس متضاد صورتحال سے پیدا ہوتے ہیں۔

جس وقت میری صحت سفر اور شرکت کی اجازت دیتی تھی تو میں کوشش کرتا تھا کہ اکیڈمی کے کسی پروگرام میں شرکت سے پیچھے نہ رہوں، لیکن پیرانہ سالی اور کثرت امراض کی وجہ سے اب میں شرکت سے معذور ہوں، لیکن جو بھی فتاوی صادر ہوتے ہیں اور جومسائل حل کئے جاتے ہیں وہ سب میری نظروں سے گزرتے ہیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ ان تمام چیزوں کا ہندوستان میں مسلمانوں کی خدمت کرنے میں، ان کو متحد کرنے میں، ان کے درمیان اختلاف کو ختم کرنے یا کم کرنے میں ایک اچھا اثر ہے ، لہذا میری تمنا ہے کہ اکیڈمی کا جھنڈا ہمیشہ اونچا رہے ، اور وہ اکیڈمی سے ایک بڑا ادارہ بن جائے جس کی ہندوستان کے مختلف مقامات پر شاخیں ہوں، تاکہ اس کا نفع، اس کی بھلائی اور اس کی برکتیں ہندوستان اور ہندوستان سے باہر تمام مسلمانوں کے لئے عام ہوسکیں۔

اللہ تعالی اکیڈمی کو اور اس کے ذمہ داروں کو خیر کی توفیق دے ، اور جو خدمت وہ انجام دے رہے ہیں اس پر انہیں بہت بدلہ عطا فرمائے ، إنہ سمیع مجیب’’۔