صدر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز

Dr. A Mohiuddin Daghi

اجمعین، اما بعد!

ہمارا یہ عہد معلوماتی انقلاب، علمی انفجار، کثرت ایجادات، تیز رفتار ترقیات، نوپیش آمدہ مسائل کے انبار، مشکلات میں روز افزوں اضافہ، اور معاملات ومعاہدات کی جدت کے اعتبار سے ممتاز ہے۔ جن کے بارے میں زمانہ ماضی میں کوئی تصور تک نہ تھا، اور نہ ہی ہمارے عظیم فقہی ذخیرہ کا اس سے کوئی تعلق، سواء اس کے کہ عام  اصول، کلی قواعد اور مقاصد شریعت کے ضمن میں سرسری ذکر آیا، ان حالات نے ہمارے عہد کے اہل علم کو نئے اجتہادات کے ذریعہ ان مسائل پر غوروفکر کرنے پر آمادہ کیا، خواہ یہ اجتہادات اجتہاد انشائی ہوں یا اجتہاد انتقائی۔

لیکن یہ نو پیش آمدہ مسائل پیچیدہ اور نازک ہوتے ہیں، ان کے سلسلہ میں دیئے گئے فتوی کے اثرات خواہ منفی ہوں یا مثبت، صرف امت مسلمہ پر ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت پر پڑتے ہیں، لہٰذا ایسے موقع پر یہ نہ ہونا چاہئے کہ کسی قوم یا کسی جماعت کی قسمت و انجام کو کسی فرد واحد کے فتوی سے نہ باندھ دیا جائے جو کبھی صحیح فتوی دے اور کبھی غلط فتوی دے۔ بلکہ یہ اس قسم کے استفتائات ومسائل کو علمی اداروں میں زیر بحث لایا جائے تاکہ وہ ان کی علت کی تحقیق فقہ مآل، فقہ تنزیل اور سد ذرائع میں غوروفکر اور بحث و تحقیق کے بعد اس سلسلہ میں درست اور مکمل فتوی صادر کرسکیں، خاص طور سے ہمارے اس دور میں جس میں اجماع اصولی ایک دشوار اور مشکل امر بن گیاہے ۔

اسی تناظر میں انٹرنیشنل اور نیشنل فقہ اکیڈمیوں کے قیام کا تصور سامنے آیا، چنانچہ سب سے پہلے جامع ازہر کے تحت ‘‘مجمع البحوث الاسلامیہ ’’ 1961ء میں قائم ہوا، پھر رابطہ عالم اسلامی کے تحت 1977 میں المجمع الفقہی الاسلامی قائم ہوا، پھر OIC (منظمۃ المؤتمر الاسلامی) کے تحت 1981 میں انٹرنیشنل اسلامک فقہ اکیڈمی قائم کی گئی، اور پھر ملکوں یا اقلیتوں کے ساتھ خاص علاقائی فقہ اکیڈمیاں قائم ہوئیں، کسی ایک ملک کے ساتھ خاص علاقائی فقہ اکیڈمیوں میں سب سے اہم ‘‘اسلامک فقہ اکیڈمی-انڈیا ’’ہے جس کی بنیاد 1988میں رکھی گئی، جس نے کئی عظیم مقاصد کو بروئے کار لانے کو اپنا ہدف بنایا؛ جن میں سے اہم یہ ہیں:

۱۔ موجودہ دور کی معاشی، معاشرتی، سیاسی و صنعتی تبدیلیوں اور جدید ترقیات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دشواریوں کا اسلامی خطوط کے مطابق قرآن و سنت، آثار صحابہ اور ائمہ مجتہدین وسلف صالحین کی تشریحات کی روشنی میں حل تلاش کرنا۔

۲۔ جدید عہد میں پیدا ہونے والے مسائل یا ایسے مسائل جو بدلتے ہوئے حالات میں بحث و تحقیق کے متقاضی ہیں فقہ اسلامی کے اصول کی روشنی میںاجتماعی تحقیق کے ذریعہ ان کا حل تلاش کرنا۔

اس باوقار اکیڈمی سے مسلسل رابطہ میں رہ کر، اس کے بعض سمیناروں اور کانفرنسوں میں شرکت کرکے اور اس کے طے کردہ فیصلوں اور سفارشات اور فتاوی کو پڑھنے کے بعد ہم نے یہ دیکھا کہ یہ اکیڈمی فقہی مسائل کے میدان میں اور ہندوستانی مسلمانوں کی طرف سے اس کے یہاں پیش کی جانے والی مشکلات کو حل کرنے میں عظیم رول ادا کررہی ہے ۔ اس ملک میں مسلمانوں کی تعداد کا اندازہ 20 کروڑ سے زیادہ کا ہے جو برصغیر ہند کے دور دراز علاقوں میں بکھرے ہوئے ہیں۔

یہ بات بھی لائق توجہ ہے کہ فقہ اکیڈمی نے جو فقہی مسائل حل کر کے پیش کئے ہیں ا ن میں شرعی بنیادوں کو سامنے رکھا ہے اور ان میں مقاصد شریعت کو واضح طریقے پر ملحوظ رکھا گیا ہے ، بلاشبہ اکیڈمی کے یہ فیصلے قدیم صالح اور جدید نافع کے جامع ہیں، قدیم صالح اس حیثیت سے کہ یہ اجتہاد انتقائی کے ذریعہ اختیار وترجیح کے بعد فقہی اجتہاد سے مربوط ہوگیا ہے ، اور جدید نافع اس اعتبار سے کہ حکمت مومن کا گم شدہ سرمایہ ہے وہ جہاںبھی ملے اس کا حقداروہی ہے ۔

فقہ اکیڈمی کی اہم خصوصیات میں سے مسلمانوں کو متحد کرنا اور ملکی سطح پر امت کے علماء کو آپس میں جوڑنا بھی ہے ، چنانچہ مختلف مذاہب فقہ اور مکاتب فکر کے علماء فقہ اکیڈمی کے سمیناروں میں جمع ہوتے ہیں اور پیش کردہ محاور و موضوعات پر بحث ومناقشہ کرتے ہیں، اور مختلف مخصوص موضوعات سے متعلق ماہرین سے مسائل کی تنقیح میں مدد بھی حاصل کرتے ہیں، اور یہ خالص علمی ماحول میں ہوتا ہے جس میں عمومی مصالح کے حصول کی آرزو اور اخوت ومحبت کی فضا چھائی رہتی ہے ۔

اکیڈمی اپنے اکثر فیصلوں میں شائع شدہ سابقہ علمی مقالات ودراسات سے بھی استفادہ کرتی ہے ، اسی طرح حتی المقدور نافع اور مفید کتابیں شائع کرتی ہے ، اور آجکل ایک علمی مجلہ نکال رہی ہے جو اسکالرز کے نزدیک ایک قابل استفادہ مرجع کی حیثیت رکھتا ہے ۔

مختصر یہ کہ اسلامک فقہ اکیڈمی انڈیا انٹرنیشنل فقہ اکیڈمیوں کی کاوشوں میں ایک مبارک اضافہ ہے اور فقہ اسلامی کی خدمت میں ایک عظیم کوشش اور اجتماعی اجتہاد کے باب میں گرانقدر سرمایہ ہے جس سے نہ صرف یہ کہ ہندوستانی مسلمان مستفید ہورہے ہیں بلکہ پورا عالم اسلام استفادہ کر رہا ہے ، اس لئے کہ اس نے فقہ اسلامی کے نئے افق وا کئے، اجتماعی اجتہاد کی روح کو عام کیا، اور مسلمانوں کو درپیش مسائل و مشکلات کے حل کے لئے گہرا شعور پیدا کیا۔

میں دعاگو ہوں کہ اللہ تعالی اسلامک فقہ اکیڈمی (انڈیا) کو مزید کی توفیق مرحمت فرمائے ، اس کے قدموں کوحق اور خیر کے راستوں پر جمائے رکھے ، اور اس کے ذمہ داروں کی عمر میں برکت عطا فرمائے کہ وہ مسلم معاشرے کے لئے مزید علمی، فقہی اور فکری خدمات پیش کرسکیں، اور اللہ تعالی ان تمام لوگوں کو بھی جزائے خیر عطا کرے جو اس میں حصہ لیں اور علم وفکر اور مال ومنصب کے ذریعہ اس کا تعاون کریں۔ وآخر دعوانا أن الحمد للّٰہ رب العالمین وصلی اللہ علی سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ وسلم۔

ڈاکٹر علی محی الدین القرہ داغی

جنرل سکریٹری اتحاد عالمی برائے مسلم اسکالرز

نائب صدر یورپی کونسل برائے بحوث وافتاء