اغراض ومقاصد

اغراض و مقاصد

اسلامک فقہ اکیڈمی کے حسب ذیل اغراض ومقاصد ہیں:

۱۔ موجودہ دور کی معاشی، معاشرتی، سیاسی و صنعتی تبدیلیوں اور جدید ترقیات کے نتیجے میں پیدا ہونے والی دشواریوں کا اسلامی خطوط کے مطابق قرآن و سنت، آثار صحابہ اور ائمہ مجتہدین وسلف صالحین کی تشریحات کی روشنی میں حل تلاش کرنا۔

۲۔ جدید عہد میں پیدا ہونے والے مسائل یا ایسے مسائل جو بدلتے ہوئے حالات میں بحث و تحقیق کے متقاضی ہیں فقہ اسلامی کے اصول کی روشنی میںاجتماعی تحقیق کے ذریعہ ان کا حل تلاش کرنا۔

۳۔ مصادر فقہ، قواعد و کلیات اور فقہی نظریات کی تشریح و توضیح اور اس عہد میں اس کی تطبیق کے موضوع پر تحقیق کرنا۔

۴۔ عصری تقاضوں کی روشنی میں فقہی موضوعات پر تحقیق و ریسرچ کرنا۔

۵۔ جدید پیش آمدہ مسائل میں محقق علماء اور مستند دینی اداروں سے ذمہ دارانہ تحریریںاور فتاوی حاصل کرکے عام مسلمانوں کو باخبر کرنا۔

۶۔ ملک و بیرون ملک کے تمام فقہی و تحقیقی اداروں سے رابطہ قائم کرنا، باہم ایک دوسرے کی علمی کاوشوں سے باخبر رہنا اور ان سے استفادہ کرنا۔

۷۔ مختلف فقہی موضوعات پر کئے گئے کاموں کا انڈکس تیار کرنا۔

۸۔ ملک کے مستند اداروں اور اشخاص کی طرف سے جاری ہونے والے وہ فتاوی وتحقیقات جن کی حیثیت علمی اور فقہی ورثے کی ہے، ایسے مطبوعہ اور غیر مطبوعہ فتاوے وتحقیقات کا انتخاب، اور ان کو عصری اسلوب میں مرتب کر کے پیش کرنا۔

۹۔ موجودہ اقتصادی، سماجی،طبی نیز مختلف ممالک اور علاقوں کے عرف و رواج، ماحولیات اور عمرانیات کے میدان میں ملک و بیرون ملک میں پیدا  ہونے والی دشواریوں اور ان موضوعات پر کی گئی تحقیقات کے نتائج سے واقف کرانا۔

۱۰۔ قوانین شرع اسلامی کے بارے میں مختلف حلقوں کی طرف سے پیدا کی جانے والی غلط فہمیوں اور غلط تعبیرات کا جائزہ، اور ان کے بارے میں صحیح نقطہ نظر پیش کرنا۔

۱۱۔ جدید سوالات اور اسلام کو درپیش چیلنج کے حل پر مشتمل ایسا لٹریچر تیار کرنا جو عصری اسلوب سے ہم آہنگ ہو ۔

۱۲۔ نئے با صلاحیت علماء کی صلاحیت کو علمی وتحقیقی رخ دینا اور ان کی حوصلہ افزائی کر کے علم و تحقیق کا ماحول سازگار کرنا، اور پختہ علمی و تحقیقی ذوق رکھنے والے علماء اور اہل دانش کو باہم مربوط کرنے کی کوشش کرنا۔

۱۳۔ مدارس اسلامیہ سے فارغ ہونے والے ذہین اور باصلاحیت فضلاء کو ضروری عصری علوم میں،اور یونیورسٹیز سے فارغ ہونے والے ذہین اورباصلاحیت افراد کو دینی اور فقہی علوم میں مناسب معلومات فراہم کرنے. کے لئے ضروری انتظام  کرنا۔
 

۱۴۔ مختلف مسالک کے علمی وفقہی ذخیرہ سے استفادہ کا رجحان پیدا کرنا۔

۱۵۔ مندرجہ بالا اغراض و مقاصد کے تحت سمینار و سمپوزیم منعقد کرنا، اسٹڈی ٹیم بنانا،تربیتی وفقہی کیمپ منعقد کرنا اور علمی ، تعلیمی  وتحقیقی ادارے قائم کرنا، نیز اپنے وسائل کے مطابق تمام وہ کام کرنا جو ان اغراض و مقاصد کے حصول کے لئے مفید اور مناسب ہوں۔