تعارف

About us



‘‘اسلامک فقہ اکیڈمی(انڈیا)ایک ایسا ادارہ اور تنظیم ہے، جس پر ہندوستانی مسلمانوں بالخصوص علماء اور دینی غیرت و فکر رکھنے والے مسلمانوں کو فخر اور فخر سے زیادہ شکر کرنے کا حق حاصل ہے، یہ ایک خالص تعمیری و فکری، علمی اور فقہی تنظیم اور اجتماعیت ہے، جس میں ملک کے ممتاز، صحیح العقیدہ و صحیح الفکر اور وسیع العلم علماء اور کارکن شامل ہیں’’۔

حضرت مولانا سید ابو الحسن علی ندویؒ

(سابق  ناظم ندوۃ العلماء لکھنؤ)


‘‘میر ی زندگی کا یہ دوسرا موقع ہے کہ مجھے انتہائی فرحت و مسرت کا احساس ہورہا ہے، آپ کا یہ اجتماع اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ آپ سب لوگ امت کے مسائل سے پریشان ہیں، نئے مسائل پر غور و فکر کی ضرورت ہر دور میں رہی ہے اور ہندوستان میں اس طرح کا یہ پہلا اجتماع ہے، میں مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی صاحب کو اس اہم اجلاس کے بلانے پر مبارکباد دیتا ہوں’’۔

حضرت مولانا سید منت اللہ رحمانیؒ

(سابق   امیر شریعت  بہارواڑیسہ و جھارکھنڈ)


‘‘مجمع الفقہ الاسلامی ایک اسلامی ادارہ ہے، جو معاصر مسائل اور اہم مشکلات پر غور اور کتاب و سنت کی روشنی میں ان کے حل کے میدان میں پچھلے انیس برسوں سے عظیم خدمات انجام دے رہا ہے،ہندوستان کا عظیم ادارہ دارالعلوم دیوبند( وقف) اکیڈمی کی خدمات اور کارکردگی کو خراج تحسین پیش کرتا ہے’’۔

حضرت مولانا محمد سالم قاسمی

(سرپرست اکیڈمی ومہتمم دارالعلوم  وقف دیوبند )


‘‘برصغیر ہند میں اسلامک فقہ اکیڈمی دور حاضر کے نئے مسائل میں فکری رہنمائی کی جو گراں قدر خدمت انجام دے رہی ہے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اسے قبول فرمائے اور مزید توفیق سے نوازے’’۔

ڈاکٹر محمد عبد الحق انصاریؒ

(سابق امیر جماعت اسلامی ہند)


‘‘اکیڈمی اپنے قیام ہی کے وقت سے علمی وفکری سرمایہ کو عام کرنے میں کوشاں رہی ہے، فقہی میدان کے ماہرین و متخصصین کے علمی و فکری ابحاث کو بھی اکیڈمی نے منصہ شہود پر لایا ہے، نیز اکیڈمی ایک سہ ماہی مجلہ بھی شائع کرتی ہے، جس میں اہم فقہی مسائل پر بحث و مناقشہ ہوتا ہے، مزید یہ کہ اکیڈمی نے اب تک کئی سمینار بھی منعقد کئے ہیں’’۔

حضرت مولانا سیدمحمد رابع حسنی ندوی

(سرپرست اکیڈمی وناظم دارالعلوم ندوۃ العلماء، لکھنؤ)

 وسیع سرگرمیاں انجام دی ہیں، فقہی اجتماعات و سمیناروں میں دنیا کے تمام حصوں سے علماء فقہ اسلامی شریک ہوئے، اور علم و فقہ اور تحقیق کی روشنی میں بہت سارے مشکلات و مسائل کے حل تک رسائی حاصل کی۔ میں اس فقہی اکیڈمی کو مسلمانان عالم کی سخت ترین ضرورت تصو ر کرتا ہوں’’۔

حضرت مولاناڈاکٹر سعید الرحمن اعظمی ندوی

(ایڈیٹر، البعث الاسلامی، مہتمم دارالعلوم ندوۃ العلماء لکھنؤ)


‘‘اکیڈمی ایک اہم ادارہ ہے جو اسلام اور مسلمانوں کی خدمت اور جدید عہدکی مشکلات اور فقہی مسائل کو شریعت اسلامیہ کی روشنی میں حل کرنے کے لئے ہندوستان میں قائم ہے، مختلف مکاتب فکر کے علماء و فقہاء کو ایک اسٹیج پر جمع کرنے کا سہرا اکیڈمی کے ہی سر ہے’’۔

حضرت مولانا کاکا سعید احمد عمری

(ناظم جامعہ دارالسلام، عمرآباد، تمل ناڈو)


‘‘قدیم و جدید اہل علم کے درمیان ہم آہنگی پیدا ہوئی، ایک دوسرے سے علمی استفادہ ہوا، جدید مسائل میں نئے ڈھنگ سے غور و فکر کا جذبہ پیدا ہوا، وقت کے تقاضوں کے لحاظ سے اکیڈمی کا قیام نہایت ضروری اور مفید ہے’’۔

حضرت مولانامفتی حبیب الرحمن خیرآبادی

(مفتی دارالعلوم دیوبند)


‘‘یہ فقہ اکیڈمی وقت کی اہم ضرورت ہے، یہ احسن اور مبارک کوشش ہے، ہم خیر مقدم کرتے ہیں اور یقین دلاتے ہیں کہ اس سلسلہ میں ہم مکمل تعاون کریں گے، یہ کام اگرچہ ریاض اور تفکر کا طالب ہے لیکن امید ہے کہ علماء کرام کتاب و سنت سے رہنمائی کریں گے اور اللہ تعالی کامیابی عطا فرمائے گا’’۔

حضرت مولانا سراج الحسن

(سابق امیر جماعت اسلامی ہند)


‘‘اسلامک فقہ اکیڈمی(انڈیا) ہندوستانی مسلم سماج کی ضروریات کی تکمیل کر رہی ہے، اور انہیں نئی مشکلات کے اسلامی حل کی راہ بتارہی ہے، اس کے مقاصد قابل تعریف ہیں اور اس کی سرگرمیاں ہمت افزا ہیں’’۔

جناب عبد الرحیم قریشیؒ(ایڈوکیٹ)

(صدر مجلس تعمیر ملت، حیدرآباد)


‘‘مجمع الفقہ الاسلامی الہند ایک اسلامی علمی ادارہ ہے، جو کئی برسوں سے ہندوستانی مسلم اقلیت کو درپیش مشکلات کے لئے شعور اور اجتماعی غور و فکر کی روح بیدار کرنے اور علماء کرام کی کاوشوں کو یکجا کرنے کی خاطر سنجیدگی و تسلسل کے ساتھ اپنے کام میں مصروف ہے، اکیڈمی سے وابستہ علماء کرام ، محنت، تقوی اور

 



اکیڈمی علماء عرب و عجم کی نظر میں


‘‘ہندوستانی مسلمان دنیا کی سب سے بڑی مسلم اقلیت ہیں، جن کی تعداد بیس کروڑ سے بھی زیادہ ہے ، ان کی اپنی فقہ اکیڈمی ہے جو علماء امت کے درمیان مقبول و متعارف ہے ، وہ ایسا ‘‘اسلامی مرکز’’ ہے جو دینی تعلیم کے میدان کے ساتھ شرعی علوم اور فقہی تحقیقات کا خصوصی ہتمام کرتا ہے ، فکری سمینار اور تربیتی پروگرام منعقد کرتا ہے، اردو اور ہندوستان کی دیگرزبانوں میں فقہی مقالات و کتابوں کا ترجمہ بھی کرتا ہے ، اسی طرح ہندوستانی مسلمانوں کا ایک علمی اور فقہی کیڈرتیارکرنے کا کام انجام دے رہا ہے ۔

اس اکیڈمی کو کسی توصیہ اور تعارف کی ضرورت نہیں، اس لئے کہ اس کی شہرت پھیلی ہوئی ہے ، اور ان کی کوششوں، کاوشوں اور غلو وانتہا پسندی سے دور رہ کر راہ اعتدال کو اپنانے کی وجہ سے اس کی تعریف کی جاتی ہے ۔

اکیڈمی کو اس وقت ہر مخلصانہ کوشش اور ہر سچے تعاون کی ضرورت ہے ۔ اور یہ بات قابل ذکر ہے کہ اکیڈمی کا کوئی اپنا مالی ذریعہ نہیں ہے اور نہ ہی کوئی موقوفہ پراپرٹی ہے جس سے وہ فائدہ اٹھاسکے یا اپنے اخراجات پورے کرسکے ، اس کا سارا مالی انتظام محسنوں کے تعاون سے چلتا ہے ۔

لہٰذا میں اللہ رب العالمین سے ثواب کی توقع رکھنے والے حضرات اہل خیر سے یہ اپیل کرتا ہوں کہ وہ اکیڈمی کا تعاون کریں، تاکہ وہ روز قیامت اللہ کے حضور اس کے میزان عمل میں موجود رہے ، اور اللہ تعالی کے نزدیک دنیا وآخرت میں ذرہ برابر بھی نیک عمل ہرگز ضائع نہیں ہوگا، اللہ تعالی فرماتا ہے: ’’وما تقدموا لأنفسکم من خیر تجدوہ عند اللہ ہو خیرا وأعظم أجرا‘‘ (سورۂ مزمل: ۰۲)۔

اور اللہ کے نزدیک دنیا وآخرت میں ذرہ برابر نیکی بھی ہرگز ہرگز ضائع نہیں جائے گا’’۔

یوسف القرضاوی

صدر عالمی اتحاد برائے مسلم اسکالرز


’’الحمدللہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی المبعوث رحمۃ للعالمین سیدنا محمد وعلی آلہ وصحبہ اجمعین، اما بعد!

ہمارا یہ عہد معلوماتی انقلاب، علمی انفجار، کثرت ایجادات، تیز رفتار ترقیات، نوپیش آمدہ مسائل کے انبار، مشکلات میں روز افزوں اضافہ، اور معاملات ومعاہدات کی جدت کے اعتبار سے ممتاز ہے۔ جن کے بارے میں زمانہ ماضی میں کوئی تصور تک نہ تھا، اور نہ ہی ہمارے عظیم فقہی ذخیرہ کا اس سے کوئی تعلق، سواء اس کے کہ عام  اصول، کلی قواعد اور مقاصد شریعت کے ضمن میں سرسری ذکر آیا، ان حالات نے ہمارے عہد کے اہل علم کو نئے اجتہادات کے ذریعہ ان مسائل پر غوروفکر کرنے پر آمادہ کیا، خواہ یہ اجتہادات اجتہاد انشائی ہوں یا اجتہاد انتقائی۔

لیکن یہ نو پیش آمدہ مسائل پیچیدہ اور نازک ہوتے ہیں، ان کے سلسلہ میں دیئے گئے فتوی کے اثرات خواہ منفی ہوں یا مثبت، صرف امت مسلمہ پر ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت