ستائیسواں فقہی سمینار

27th Fiqhi Seminar

بسم اللہ الرحمن الرحیم

 

سوالنامہ برائے ستائیسواں فقہی سمینار

عصری تعلیمی اداروں سے متعلق شرعی مسائل

 

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن وحدیث اور احکام شرعیہ کی تعلیم کو تمام دوسرے علوم پر فضیلت حاصل ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ انسانی زندگی میں جن علوم کی ضرورت پیش آتی ہے، وہ سب علم نافع میں شامل ہیں، اور ضروری ہے کہ مسلمان اپنے دینی تعلق کو قائم رکھتے ہوئے ان علوم میں آگے بڑھیں ؛تاکہ وہ ایک باعزت قوم کی حیثیت سے دنیا میں زندگی گزار سکیں، اور انسانیت کی خدمت کرسکیں، اس کے لئے اس تعلیم کا حاصل کرنا ضروری ہے، جس کو آج کل عصری تعلیم یا انگریزی تعلیم کہاجاتا ہے، لیکن افسوس کہ یہ نظام تعلیم مسلمانوں کے ہاتھ میں نہیں ہے، اب تو مغربی ملکوں میں بھی اور ہمارے ملک میں بھی تعلیم کو خدا بیزاری کی طرف لے جانے کا ذریعہ بنادیاگیا ہے، مسلمان ایک مشکل صورت حال سے دوچار ہیں کہ انہیں اپنی نسلوں کو دین پر ثابت قدم رکھنا بھی ضروری ہے اور زیور تعلیم سے بھی آراستہ کرنا ہے۔

اس پس منظرمیں کچھ اہم سوالات آپ کی خدمت میں پیش ہیں:

۱- ایسے اسکول قائم کرنے کا کیا حکم ہے، جن کے اندر اسلامی ماحول میں مطلوبہ معیار تعلیم کے مطابق عصری علوم پڑھائے جائیں،یہ واجب یا مستحب کے درجہ میں مطلوب ہیں یا صرف مباح ہیں،یا مکروہ وناپسندیدہ؟

۲- ایسے ادارے اگر مسلمانوں کے زیر انتظام ہوںتونصاب تعلیم میں کن امور کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے؟، بعض اسکولوں میں غیر شرعی افکار مثلاً ڈارون ازم، فرائڈ کا نظریہ جنس،غیر اخلاقی مضامین مثلاً میوزک، ڈانس، جنسی تعلیم اور تاریخ کے نام پر غیر معقول دیومالائی کہانیاں پڑھائی جاتی ہیںتو کیا مسلمان اپنے زیر انتظام تعلیمی اداروں میں ان مضامین کو پڑھا سکتے ہیں، خاص طور سے اس وقت جبکہ ان میں سے بعض مضامین کا پڑھانا اسکولوں کے لئے لازم ہو؟

۳- نصاب تعلیم کے مذکورہ مفاسد سرکاری تعلیمی اداروں میں زیادہ ہوتے ہیں، جہاں ان بچوں کے لئے تعلیم کا حصول آسان ہوتا ہے ، جو بھاری فیس ادا نہیں کرسکتے، اسی طرح بعض مقامات پر ایسے اسکول نہیں ہیں، جو مسلمان انتظامیہ کے تحت چلتے ہوں، وہ عیسائی مشنری یا سنگھ پریوار کے تحت چلنے والے ادارے ہوتے ہیں، قریب میں مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والا اسکول نہیں ہوتا، جس میں مسلمان اپنے بچوں کو تعلیم دلا سکیں، ایسی صورت میں کیا مسلمانوں کے لئے ان اسکولوں میں اپنے بچوں کو تعلیم دلاناجائز ہوگا، اور اگر مجبوری میں ایسے اداروں میں تعلیم کے لئے داخل کرنا پڑے تو بچوں کے دین و ایمان کی حفاظت کے لئے والدین پر کیا ذمہ داری عائد ہوتی ہے؟

۴- عصری درسگاہوں کے اندر شروع سے آخر تک یا کم سے کم ابتدائی درجات میںمخلوط تعلیم کا نظام ہوتا ہے، لڑکے اور لڑکیاں ایک ساتھ کلاسوں میں پڑھتے ہیں، کھیل کے میدان میں اور چائے خانوںمیں آپس میں ملتے جلتے ہیں، مخلوط نظام تعلیم کا ایک سبب تو مادیت، دین بیزاری اور اخلاقی انحطاط ہے،وہیں دوسرا سبب یہ ہے کہ جداگانہ نظام تعلیم میں زیادہ اساتذہ، عملہ،کلاس روم وغیرہ کی ضرورت پڑتی ہے، اور بعض دفعہ انتظامیہ اس کا نظم کرنے سے قاصر ہوتی ہے، تو کیا ان دونوں میں سے کسی سبب کے تحت مخلوط تعلیم کا نظام درست ہے ؟اور نہیں توکس عمر یا کس کلاس سے طلبہ و طالبات کی الگ الگ جماعتیں رکھنا ضروری ہوگا؟

۵- جداگانہ نظام کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

٭ لڑکوں اور لڑکیوں کے لئے الگ الگ بلڈنگ ہو۔

٭ دونوں کے لئے الگ الگ کلاس روم ہوں، داخل ہونے اور نکلنے کے دروازے اور قضائے حاجت کے مقامات الگ ہوں، لیکن بلڈنگ ایک ہی ہو۔

٭ ایک ہی بلڈنگ اور ایک ہی کلاس روم ہو، لیکن طلبہ وطالبات کی نشستوں کے درمیان مستقل یا عارضی ایسی دیوار یں ہوں کہ ایک استاذ دونوں کو پڑھا سکے، یا آگے لڑکوں کی نشستیں ہوں اور پیچھے لڑکیوں کی نشستیں ہوں، باقی آمد ورفت کے راستے وغیرہ الگ الگ ہوں۔

جداگانہ نظام تعلیم کی ان صورتوں میں کون سی صورت ضروری اور کون سی صورت جائز ہوگی؟

۶- ان اسکولوں میں داخلے کے لئے ایک خاص عمر بھی لازم کردی گئی ہے، مثلاً نرسری میں صرف وہ بچہ داخل ہوگا جو چار سال سے کم عمر کا ہے، اب اگر کوئی بچہ عمر کی اس حد کوپار کرچکا ہے تو سرپرست ایسے بچے کی عمر کم کرکے لکھواتے ہیں اور والدین جھوٹا حلف نامہ داخل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں کہ بچہ صرف تین سال کا ہے، پھر ساری عمر اس کی یہی غلط تاریخ پیدائش ہر جگہ درج ہوتی رہتی ہے۔

اس سلسلے میں شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا عمر کا یہ غلط اندراج کرانا درست نہیں ہوگا؟ اسکول والوں کی طرف سے اس شرط کو ناواجبی مان کر ایسا کرنے کی گنجائش ہوگی؟

۷- ان اسکولوں میں داخل ہونے والے بچوں کے لئے مخصوص لباس-یونیفارم-لازم ہے، اس میں بعض ادارے ٹائی کو لازم کرتے ہیں، لڑکیوں کو اسکرٹ پہننی ہوتی ہے اور لڑکوں کو نیکر پہننا ضروری قرار دیتے ہیں، اگر کوئی طالب علم شریعت کے دائرہ میں رہتے ہوئے ساتر لباس پہنے، یا کوئی طالبہ برقعہ پہننا چاہے تو اس کو خلافِ ڈسپلن کہہ کر باہر کردیاجاتا ہے، اب تو بعض اسکولوں میں اسکارف پہننے کو بھی منع کیاجاتا ہے،یہ مسلمانوں کے زیر انتظام اسکولوں میں ہوتا ہے، اور غیر مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے اسکولوں میں بھی، تو سوال یہ ہے کہ یونیفارم مقرر کرنے کے کیا اصول و ضوابط ہوں گے، جو شریعت کے مطابق بھی ہوں اور ایسے دیدہ زیب بھی ہوں کہ دوسرے اسکولوں میں پڑھنے والے بچوں کے یونیفارم دیکھ کر اسلامی اسکولوں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ احساس کمتری میں مبتلا نہ ہوں، نیز اگر اسکول کا انتظام مسلمانوں کے ہاتھ میں نہ ہو اور اسلامی اسکول موجود نہ ہوں تو مسلمان طلبہ و طالبات اور ان کے اولیاء کے لئے کیا حکم ہوگا؟

۸- ان اسکولی طلباء سے داخلہ فیس، ماہانہ فیس، ٹرم فیس، ٹرانسپورٹ فیس، مطبخ فیس، امتحان فیس وغیرہ کے نام سے مختلف فیسیں لی جاتی ہیں اور داخلہ فیس کی مقدار بعض اوقات بہت زیادہ ہوتی ہے، یہ رقم تعمیر، اسٹیشنری، تزئین کاری اور جدید وسائل مثلاً کمپیوٹر لیب وغیرہ خریدنے میں بھی صرف ہوا کرتی ہے، داخلہ فیس دینے والا فیس دے کر محدود عرصہ تک اس سے مستفید ہوتا ہے پھر وہ اسکول سے چلا جاتا ہے، فیس کی بڑھتی ہوئی اس مقدار نے غریب ہی نہیں متوسط طبقہ کے لوگوں کے لئے بھی اپنے بچوں کو زیور تعلیم سے آراستہ کرنا مشکل سے مشکل تر کردیا ہے، توکیا تعلیم کوخدمت کے بجائے کم وقت میں زیادہ سے زیادہ نفع دینے والی تجارت بنا لینا جائز ہے؟ نیز ان میں بعض اسکول تو شخصی ہوتے ہیں اور بعض تعلیمی اور رفاہی اداروں کے تحت چلتے ہیں؛ لیکن ا ن سے حاصل ہونے والے پیسوں سے غریب بچوں کو تعلیمی سہولت فراہم کرنے کے بجائے بلڈنگوں کووسعت دینے اور خوب صورت بنانے میں خرچ کردیاجاتا ہے، اسلام اس کو کس نظر سے دیکھتا ہے؟

۹- اس سلسلہ میں ایک قابل توجہ مسئلہ یہ بھی ہے کہ ماہانہ فیس لے کر بعض دفعہ طالب علم کسی وجہ سے غیر حاضر ہوجاتا ہے ،مگر اس کا ٹیچر کلاس میں آتا رہا ہے تو کیا غیر حاضر طالب علم سے ماہانہ تعلیم وغیرہ کی فیس یا ٹرانسپورٹ فیس لینا درست ہوگا ؛حالانکہ دونوں نے اس سے استفادہ نہیں کیا ہے؟

۱۰- عصری تعلیمی اداروں میں تعلیم پانے والے بہت سے بچے غریب ہوتے ہیں، جو اپنی تعلیم کے اخراجات کے متحمل نہیں ہوتے تو کیا ایسے بچوں پر زکوۃ کی رقم خرچ کی جاسکتی ہے؟

۱۱- بعض سرکاری اور پرائیویٹ اسکولوں میں مشرکانہ ترانے، وندے ماترم یا گیتا کے اشلوک شروع میں پڑھوائے جاتے ہیں، سوریہ نمسکار کرایاجاتا ہے، یوگا کرایاجاتا ہے ،جس کاایک جز سوریہ نمسکاربھی ہے، کہیں طلبہ پر اس کو لازم کردیاگیا ہے، کہیں اس کی ترغیب دی جاتی ہے اور اس کے لئے ماحول سازی کی جاتی ہے، بعض ریاستوں میں خود ریاستی حکومت نے اسکولوں پر اس کا آرڈر جاری کردیا ہے، مشنری اسکولوں میں حضرت عیسی علیہ السلام کی فرضی تصویر یا مجسمہ کے سامنے دعا کرائی جاتی ہے، اور اگر چہ اس کو لازم نہیں کیاجاتا ہے؛ لیکن ترغیب دی جاتی ہے، یہاں تک کہ بعض مسلمان انتطامیہ اسکول میں زیادہ داخلے کی لالچ یا حکومت کو خوش کرنے کے لئے اس طرح کا عمل کراتے ہیں تو سوال یہ ہے کہ :

٭ اگر سرکاری اداروں میں جبری طور پریہ عمل ہو تو مسلمانوں کے لئے کیاحکم ہے؟

٭ اگر سرکاری اداروں میں اختیاری طور پر اس کی ترغیب دی جائے تو ایسے اسکولوں میں بچوں کو داخل کرنے کا کیا حکم ہے؟

٭ اگر غیر مسلم انتظامیہ کے تحت چلنے والے پرائیوٹ اداروں میں اس کو لازم قرار دیا جائے اور اس کے سوا کوئی اورادارہ نہ ہوتو مسلمانوں کو کیا کرنا چاہئے؟

٭ اگر غیر مسلم پرائیویٹ ادارہ ہو اور اس میں بطور ترغیب کے ان کاموں کے کرنے کا حکم دیاجائے تو کیا حکم ہوگا؟

٭ ان تمام صورتوں میں اگر دوسرے ایسے ادارے موجود ہوں جو ان برائیوں سے پاک ہوں اور وہاں داخلہ ہوسکتا ہے تو اِن مشرکانہ افعال کو لازم کرنیو الے یا ترغیب دینے والے ادارے میں مسلمان بچوں کو داخل کرنا جائز ہوگا؟

٭ کیا مسلمان انتظامیہ کے لئے اس بات کی گنجائش ہوگی کہ وہ اسکول کی ترقی کی مصلحت کے تحت اپنے یہاں ان چیزوں کو رواج دیں،یا مسلمان بچوں کو ان سے الگ رکھیں اور صرف غیر مسلم بچوں کے لئے اس کا انتظام کریں۔

۱۲- عالمی سطح پر یہ رجحان پروان چڑھ رہا ہے کہ بچوں کو جنسیات کی تعلیم بھی دینی چاہئے،ہمارے ملک کے نصاب میں اس مضمون کو بھی شامل کردیا گیا ہے، اور ہوسکتا ہے کہ پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں بھی اس کو لازم کردیاجائے، اس کی ایک وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ بڑھتی ہوئی اخلاقی بے راہ روی کی وجہ سے زنا اور خلاف فطرت فعل وغیرہ کے واقعات بڑھتے چلے جارہے ہیں، اور اس کی وجہ سے مختلف بیماریاں پیدا ہورہی ہیں، اس لئے طلبہ وطالبات کو جنس کی حقیقت سمجھائی جائے اور اس کی آڑ میں محفوظ سیکس کی تعلیم دی جائے تاکہ وہ بدکاری سے پیدا ہونے والی بیماریوں سے محفوظ رہیں، یہ افسوس کی بات ہے کہ اخلاقیات کی تعلیم دینے اور برائی سے بچانے کے بجائے برائی کے محفوظ راستے تلاش کئے جارہے ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اگر حکومت اس کو لازم کردے تو اسکولوں میں اس کی تعلیم دینے یا اپنے بچوں کو داخل کرنے کے کیا احکام ہوںگے؟کیا یہ بات مناسب ہوگی کہ حکومت سے کہاجائے کہ ہم بچوں کو اسلامی اقدار کی روشنی میں جنسیات کی تعلیم دیتے ہیں،اور مسلمان تعلیمی ادارے ایسی کتاب مرتب کریں جس میں بلوغ اور قریب البلوغ لڑکوں اور لڑکیوںسے متعلق شرعی احکام ، اخلاقی ہدایات، عفت و پاکیزگی کی اہمیت اور بے عفتی پر اخروی نقصان کے ساتھ ساتھ دنیوی مضرتوں کو واضح کیاجائے؟

۱۳- عصری اسکولوں میں تفریحی ، طبی سرگرمیوں کے نام پر وقتا فوقتا بچوں کی دوڑ، سائیکل ریس، دوسرے شہروں کی سیر اورمختلف کھیلوں کے مقابلے کرائے جاتے ہیں جس میں طلبہ و طالبات کا اختلاط بھی ہوتا ہے، اس کے لئے شرعی حکم کیا ہوگا؟ کیا مسلمان انتظامیہ کو اختلاط سے بچاتے ہوئے دونوں صنفوں کے لئے ان کاموں کو کرانا چاہئے؟

۱۴- ثقافتی پروگرام کے عنوان سے تقریریں، ڈرامے اور مکالمے کرانے کا سلسلہ بھی اسکولوں میں عام ہے، اس میں طالبات کو بھی تقریروں اور ڈراموں میں شریک کیاجاتا ہے، اس کے متعلق کیا شرعی حکم ہوگا؟

۱۵- نصاب تعلیم میں ابتدائی درجات کے بچوں کے لئے ایسی کتابیں -جن میں جانوروں کی تصاویر اور اعضاء انسانی کی تصاویر ہوتی ہیں-نصاب میں شامل کرنا درست ہے ، کیا تعلیمی مقاصد کے لئے کسی چیز پر نقش کئے بغیر ڈیجیٹل تصویر کے ذریعہ کام لیاجاسکتا ہے؟ اسی طرح آج کل ابتدائی درجات کے بچوں کے لئے پلاسٹک یا لکڑی کے مجسمے-جو جانوروں کے بھی ہوتے ہیں-کلاسوں میں رکھے جاتے ہیں؛تاکہ بچے جانوروں کے نام پڑھتے ہوئے ان کے مجسمے بھی دیکھ لیں،اس کو جدید طریقہ تعلیم میں بڑی اہمیت دی جاتی ہے، کیا یہ مجسمے کلاسوں میں مہیا کرنا جائز ہوگا؟

۱۶- آج کل عصری تعلیمی اداروں میں طالبات کو بھی وہی مضامین پڑھائے جاتے ہیں جو طلبہ کے لئے ہوتے ہیں، ان کو ایسے مضامین کی تعلیم نہیں دی جاتی ،جو ان کی ضرورتوں سے متعلق ہو، جیسے: سلائی، کڑھائی، پکوان، امور خانہ داری میں مہارت، اور اولاد کی تربیت وغیرہ، جو ادارے مسلمان انتظامیہ کے تحت چلتے ہیں، وہ لڑکیوں کے لئے ان امور کی تعلیم کا انتظام کرسکتے ہیں، تو کیاان کو اس طرح کا انتظام کرنا چاہئے، اور چاہئے تو کیا اسے واجب یا مستحب کا درجہ دیاجاسکتا ہے؟

۱۷- یہ بات ظاہر ہے کہ ہر مسلمان کے لئے دین کی بنیادی واقفیت ضروری ہے، پہلے بچے پانچ چھ سال بلکہ اس سے بھی زیادہ عمر میں اسکول میں داخل کئے جاتے تھے، اور ابتدائی جماعتوں میں تعلیم کابوجھ بھی کم ہوا کرتا تھا؛ اس لئے گھر میں بچوں کی بنیادی تعلیم ہوجایاکرتی تھی، خود ماں باپ میں بھی اتنی صلاحیت ہوتی تھی کہ وہ اپنے بچوں کو پڑھالیں؛ لیکن مادیت کے غلبہ اور مغربی نظام تعلیم نے اس اہم فریضہ سے نہ صرف لوگوں کو غافل کردیا ہے؛ بلکہ اب اس کی ضرورت و اہمیت بھی دلوں سے رخصت ہوگئی ہے، اس پس منظر میں ضروری ہے کہ مسلمان اسلامی ماحول کے ساتھ عصری و تعلیمی ادارے قائم کریںاور ان میں ضروری حد تک بچوں کو دینی تعلیم سے آراستہ کریں۔

سوال یہ ہے کہ ایسے اسکولوں میں کس حد تک دینی تعلیم شرعا ضروری ہے؛ تاکہ طلبہ و طالبات بقدر واجب دینی تعلیم حاصل کرلیں، اور دوسرے مضامین کی تعلیم بھی متاثر نہ ہو؟

۱۸- اساتذہ کے تقرر میں مرد معلمین اور خواتین معلمات کا مسئلہ بہت ہی اہم ہے، بالغ لڑکے اور بالغ طالبات کے لئے جنس مخالف میں سے ٹیچر مقرر کرنے کے متعلق شرعا ًکیا حکم ہوگا، یہ مسئلہ اس صورت میں مزید اہم بن جاتا ہے جب خاتون معلمہ کم تنخواہ پر مہیا ہو اور اسکول کی مالی حالت کا تقاضا ہو کہ وہ ان کی خدمت سے استفادہ کرے تو کیا ایسی صورت میں مخالف جنس ٹیچر کا تقرر درست ہوگا؟

۱۹- اسی طرح اسکولوں کی تعلیمی اور دوسری سرگرمیوں کے معائنہ کے لئے محکمہ تعلیم کی طرف سے وقتا فوقتا معائنہ کرنے والے آتے رہتے ہیں، اور وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کلاس روم کی وسعت، باتھ روم، بچوں کے لئے کھیل کی سہولتیں، یونیفارم، فیس کا ڈھانچہ اور اسکول کی طرف سے دی جانے والی دیگر سہولیات کا معائنہ کرکے حکومت کی طرف سے منظوری کو برقرار رکھنے یا منسوخ کرنے کی تجویز دیتے ہیں، چونکہ بدقسمتی سے آج کل ہر میدان میں رشوت کا لین دین ایک معمول سا بن گیا ہے؛ اس لئے یہ رشوت کے طالب ہوتے ہیں، اور نہ دی جائے تو معمولی بہانوں سے منظوری کو منسوخ کرنے کی تجویز پیش کردیتے ہیں، کیا ایسی صورت میں ان کو رشوت دے کر اسکول کو بچایاجاسکتا ہے؟

٭٭٭

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوالنامہ

حیوانات کے حقوق اور ان کے احکام

 

اسلام دین رحمت ہے اور اس نے تمام مخلوقات کے ساتھ رحم دلی کی تعلیم دی ہے، ان میں ایک حیوانات بھی ہیں، یہ انسان کے لئے بہت بڑی نعمت ہے ،جو بار برداری کے کام آتی ہے، جن کے چمڑوں سے مختلف ضروری اشیاء  تیار کی جاتی ہیں، جن کے بعض اجزاء سے دوائیں بنائی جاتی ہیں، یہ ماحولیات کو درست رکھنے میں بھی اہم کردارادا کرتے ہیں، اور ان میں سے بعض وہ بھی ہیں جن کو اللہ تعالی نے حلال قرار دیا ہے اور وہ ہماری غذائی ضروریات کو بھی پوری کرتے ہیں۔

 اس وقت دنیابھر میں جانوروں کو بچانے کی کوششیں کی جارہی ہیں؛ کیونکہ بعض جانوروں کی نسلیں ختم ہوتی جارہی ہیں اور ماحول پر اس کا منفی اثر پڑرہا ہے؛ اسی لئے جانوروں کے تحفظ اور اس کو انسان کی ظلم و زیادتی سے بچانے کے لئے مختلف قوانین بنائے گئے ہیں، ہمارے ملک میں بھی سرکاری طور پر اس کا مستقل شعبہ قائم ہے، رسول اللہ ﷺ نے جہاں مختلف انسانی حقوق ذکر فرمائے ہیں، وہیں حیوانات کے حقوق کی طرف بھی اشارہ کیا ہے، اور فقہاء نے بھی شریعت کے مقاصد اور قرآن و حدیث کی تعلیم کو سامنے رکھتے ہوئے جانوروں کے حقوق کے بارے میں گاہے گاہے روشنی ڈالی ہے، جن کو موجودہ حالات اور ضروریات کے پس منظر میں واضح کرنے کی ضرورت ہے۔

اس سلسلہ میں درج ذیل سوالات پیش خدمت ہیں:

۱- آج کل چارہ خور جانوروں کے لئے ایسی غذائیں تیار کی جارہی ہیں، جن میں لحمی اجزاء بھی شامل ہوتے ہیں؛ تاکہ وہ تیزی سے بڑھ سکیں، اور ان سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھایاجاسکے، جو ظاہر ہے کہ چارہ خور جانوروں کی فطرت کے خلاف ہے، تو کیا یہ عمل جائز ہے؟

۲- جانوروں سے زیادہ دودھ حاصل کرنے کے لئے اور بعض چھوٹے جانوروں کے گوشت میں اضافے کے لئے انہیں انجکشن لگائے جاتے ہیں، اس سے دودھ اور گوشت کی مقدار میں نمایاں اضافہ ہوجاتا ہے، اس کا کیا حکم ہوگا؟

۳- حلال جانوروں کے دودھ میں اضافہ یا اس کے جسمانی حجم کو بڑھانے کے لئے حرام جانور سے اس کا اختلاط کرایاجاتا ہے، خاص کر جرسی گائے کے بارے میں سمجھاجاتا ہے کہ یہ خنزیر کے اختلاط سے پیدا ہوتی ہیں؛ اسی لئے ان کے دودھ کی مقدار بہ مقابلہ دوسری گایوں کے کافی زیادہ ہوتی ہے، کیا ایک جانور کا اس طرح دوسری جنس کے جانور سے اختلاط کرانا درست ہوگا اور اگر ان میں سے ایک حلال اور دوسرا حرام ہو تو اس سے پیدا ہونے والے بچوں پر شرعا کیا اثر مرتب ہوگا؟

۴- زینت کے طور پر بعض جانور پنجرے میں رکھے جاتے ہیں، جیسے :پرندے، ہرن وغیرہ، ان کو کھانا مقصود نہیں ہوتااور نہ ان کی تجارت مقصود ہوتی ہے، کیا ان کو اس طرح رکھنا درست ہوگا؟

۵- انسان کے جذبات شوق کی بھی کوئی سرحد نہیں ہوتی، اس کا ایک مظہر یہ ہے کہ بعض لوگ خطرناک جانوروں کو پنجروں میں بند کر کے یا باندھ کر رکھتے ہیں، جیسے :شیر، سانپ، خونخوار کتے ، اگر کبھی بے قابو ہوجائیں تو بہت سی انسانی اور حیوانی جانوں کا نقصان ہوسکتا ہے، کیا اس طرح کا شوق پورا کرنے کی شرعا گنجائش ہوگی؟

۶- جانوروں پر میڈیکل تجربات بھی کئے جاتے ہیں، پہلے انہیں ایسے انجکشن لگائے جاتے ہیں ،یا دوائیں دی جاتی ہیں کہ وہ بیمار ہوں، اور پھر ان کے علاج کے لئے امکانی دوائوں کا تجربہ کیاجاتا ہے، کیا اس طرح کے تجربات درست ہوں گے؟

۷- کیا دوائوں کے لئے زندہ جانور کو بے ہوش کر کے اس کے کسی عضو کو نکال لینا یاآپریشن کر کے اس میں کوئی آلہ رکھ دینا جو جانور کے لئے باعث تکلیف ہوسکتا ہو،درست ہوگا؟

۸- بعض جانوروں کی نسلیں ختم ہوتی جارہی ہیں، اور یہ بات ماحولیات کے لئے نقصان کا باعث بن رہی ہے، اس کی وجہ سے حکومت کی طرف سے اس کے شکار پر پابندی لگادی گئی ہے، اسی طرح بعض جانوروں کو ملک کی یا کسی ریاست کی حکومت قومی جانور قرار دے دیتی ہے، اور اس طرح کے جانوروں کے شکارکرنے اور ذبح کرنے کی ممانعت ہوتی ہے، یہ ممانعت شرعا کس حد تک واجب العمل ہے؟

۹- اگر مسلمان ملے جلے معاشرہ میں رہتے ہوں، جہاں کوئی گروہ کسی خاص جانور کو معبود اور مقدس مانتا ہو، اگر اس جانور کو ذبح کیاجائے تو اس سے ان کی دل آزاری ہوتی ہے اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے، یا قانونا اس کو ذبح کرنے کی پابندی ہے، تو مسلمانوں کا اس سلسلہ میں کیا رویہ ہونا چاہئے؟

۱۰-   حکومت جنگلات میں شکار سے منع کرتی ہے، بعض نہروں اور جھیلوں پر پرندوں کے شکار سے روکتی ہے؛ کیونکہ وہاں موسم کے لحاظ سے دور دراز علاقے کے پرندے آتے ہیں، جن کو’ مہمان پرندہ‘ کہاجاتا ہے، ان سرکاری قوانین کی رعایت شرعا کس حد تک واجب ہے؟

۱۱- بعض دفعہ وبائی متعدی امراض کو روکنے کے لئے بڑے پیمانے پر جانوروں کو ماردیاجاتا ہے، خاص کر مرغیوں کو مارنے کے واقعات بار بار پیش آتے رہتے ہیں، کبھی ان کو مارنے کے لئے گڑھوں مین زندہ دفن کردیاجاتا ہے اور کبھی ان پر ایسڈ ڈال دیاجاتا ہے، توامراض کے پھیلائو کے خوف سے کیاانہیں مارا جاسکتا ہے اور چونکہ یہ بڑی تعداد میں ہوتے ہیں تو ان کے مارنے کی کیا شکل اختیار کی جاسکتی ہے؟

۱۲- جانوروں کو کن انسانی مصالح کے لئے مارا جاسکتا ہے؟ جیسے ہاتھی کے دانت، ہرن کی سینگ اور کھال حاصل کرنے کے لئے وغیرہ۔

۱۳- اسی طرح جو جانورا نسان کے لئے نقصان دہ ہوتے ہیں، ان کو مارنے کا کیا حکم ہوگا اور کن حالا ت میں ان کو مارنے کی اجازت ہوگی؛ کیونکہ وہ جہاں انسان کے لئے مضرت کا باعث ہیں، وہیں ماحولیات کو انسان موافق بنانے میں بھی ایک اہم رول ادا کرتے ہیں۔

۱۴- جانوروں کے ساتھ حسن سلوک کے سلسلے میں قرآن و حدیث اور فقہاء کے اجتہادات میں کیا ہدایتیں دی گئی ہیں؟

٭٭٭

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوالنامہ

مکانا ت کی خرید و فروخت سے متعلق نئے مسائل

 

انسان کی بنیادی ضروریات میں سے ایک اہم ضرورت مکان ہے ، رسول اللہ ﷺ نے کشادہ مکان کو بڑی نعمت قرار دیا ہے، جس شخص کے پاس اپنا ذاتی مکان نہیں ہوتا، اس کو ایک مسافر کی طرح زندگی گزارنی پڑتی ہے؛ اس لئے جس شخص پر نفقہ کی ذمہ داری ہے، قرآن مجید نے اس پر رہائش(مسکن) کی ذمہ داری کا صراحت کے ساتھ ذکر کیا ہے، اور فقہاء نے بھی نفقہ میں اس ضرورت کوشامل رکھاہے، خود رسول اللہ ﷺ جب اپنے رفقاء عالی مقام کے ساتھ مدینہ منورہ تشریف لائے تو پہلے آپ ﷺ نے مواخات کا نظام قائم فرمایا ، جو آپ ﷺ کی حکمت، حسن تدبیر اور انصار کے ایثار کا ایسا نادر واقعہ ہے کہ تاریخ انسانی میں اس کی کوئی مثال نہیں مل سکتی؛لیکن جہاں جاںنثار میزبانوں نے اپنی قربانی کا نمونہ پیش کیا، وہیں آپ ﷺ کوبھی اس کا لحاظ تھا کہ میزبانوں کو زحمت نہ ہو؛ چنانچہ مسجد نبوی کی تعمیر کے بعد آپﷺ نے جلد ہی اپنے مکان کی فکر فرمائی، اور مہاجرین نے بھی اپنے اپنے مکانات کا انتظام کرلیا۔

اِس وقت صورت حال یہ ہے کہ دنیا میں انسانوں کی ایک قابل لحاظ آبادی مکان کی سہولت سے محروم ہے، خود ہمارے ملک میں بھی بہت سے لوگوں کو سر چھپانے کے لئے چھت تو کیا چھپر بھی میسر نہیں ہے، اس دشواری سے نمٹنے کے لئے حکومت بھی کوشش کررہی ہے، رفاہی تنظیمیں بھی مسئلہ کو حل کرنے کے لئے کوشاں ہیں، اور یہ سرمایہ کاری کا میدان بھی بن چکا ہے؛بلکہ بڑے اور متوسط شہروں میں یہ سب سے اہم تجارت بن گئی ہے۔

اس سلسلے میں متعدد مسائل ہیں، جو بلڈنگ کے تاجروں اور خریداروں کی طرف سے پیش کئے جاتے ہیں، ایسے ہی چند سوالات ذیل میں درج کئے جارہے ہیں:

۱- بعض بڑے شہروں میں سَلَم علاقے(Slum Area) ہیں ،جہاں بہت سے لوگ سرکاری اراضی پر جھونپڑیوں میں گزارا کرتے ہیں، معاشی اعتبار سے یہ خط افلاس سے نیچے رہنے والوں میں ہوتے ہیں، حکومت ان میں بسنے والوں کو بہتر زندگی گزارنے کا موقع فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہے، جس کا طریقہ یہ ہوتا ہے کہ بلڈر اِن حضرات سے معاہدہ کرتے ہیں کہ وہ انہیں اتنے اسکوائر فٹ کا مکان بنا کر دیں گے، پھر مختلف مراحل طے کرنے کے بعد حکومت اسے منظور کرتی ہے، اب بلڈر ان جھونپڑیوں کے مکینوں سے مکان خالی کروا کر اس جگہ بلڈنگیں تعمیر کرتا ہے اور ان حضرات کو مکان الاٹ کرتا ہے، نیز حکومت کے قانون کے مطابق کچھ مکانات کو خود فروخت بھی کرتا ہے، اور اپنا فائدہ حاصل کرتا ہے، جس میں مندرجہ ذیل مسائل پیش آتے ہیں:

الف- جب تک یہ مکان تیار نہیں ہوتا، تب تک اس مکان کی فائل صاحب مکان کے پاس ہوتی ہے، ان فائلوں کو لوگ فروخت کرتے ہیں، اس فروخت کامطلب یہ ہوتا ہے کہ جب بھی بلڈرمکان بنا کر دے گا تو اس کا مالک فائل خریدنے والا ہوگا، اور یہ سب جھونپڑی مکین اور خریدار کی آپسی مفاہمت سے ہوتا ہے، کیا اس طرح جھونپڑی کے مکین سے فائل خریدنا درست ہوگا؟ شرعا اس کی کیا حیثیت ہوگی؟

ب- بعض مرتبہ مکان بن جاتا ہے ، لیکن ابھی یہ بات متعین نہیں ہوتی کہ کس کو کس منزل پر کس نمبر کا مکان دیاجائے گا؟ مگر اصل مالک اور خریدار کی آپسی مفاہمت سے لین دین ہوتی ہے، خریدار بھی اس بات پر راضی ہوتا ہے کہ مجھے قرعہ اندازی میں جس منزل پر مکان ملے گا، اس پر اعتراض نہیں کروں گا، گویا نزاع کا کوئی خطرہ نہیں ہوتا۔کیا اس طرح مکان خریدنا درست ہوگا؟

ج- کبھی ایسا ہوتا ہے کہ مکان مکمل تیار ہوجانے اور مستحق کے قبضہ میں آجانے کے بعد اسے فروخت کیاجاتا ہے، مگر حکومت پانچ یا دس سال تک اسے فروخت کرنے کی اجازت نہیں دیتی؛ اسی لئے یہ خرید وفروخت حکومت کی نظر میں غیر قانونی ہے، یہ مکان متعینہ مدت تک خریدار کے نام پر بھی نہیں ہوتا، اس فروخت کو منع کرنے کی ایک وجہ یہ ہوتی ہے کہ یہ جھونپڑی کے مکین نیا مکان فروخت کر کے دوبارہ کسی اور جگہ جھونپڑا باندھ کر بس جاتے ہیں، جس سے دوبارہ مسائل کھڑے ہوجاتے ہیں، اور حکومت کا مقصد حاصل نہیں ہوپاتا، توسرکاری قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اس مکان کی خریدوفروخت کا کیا حکم ہوگا؟

د- کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بلڈر خود ان جھونپڑیوں کے مکینوں سے فائل خرید کر کسی اور کو فروخت کردیتا ہے، اس خرید و فروخت کا کیا حکم ہوگا؟

ھ- بعض مرتبہ بلڈر سرکاری افسران کو رشوت دے کر فرضی جھونپڑیوں کی فائلیں بنا کر ان کوفروخت کردیتا ہے، یعنی جھونپڑیاں حقیقت میں موجود نہیں ہوتی ہیں، مگر انہیں کاغذات اور نقشے میں دکھا کر فائلیں بنوائی جاتی ہیں اورپھر انہیں فروخت کردیاجاتا ہے، اور کسی خالی جگہ پر مکانات بنا دیئے جاتے ہیں۔

کیا اس طرح فرضی جھونپڑی کی فائل بیچنا بلڈر کے لئے درست ہوگااور کیا اس طرح فائل خریدنے والا گنہگار ہوگا؟

۲- حکومت خود مکانات بناتی ہے اور اپنے شہریوں میں قرعہ اندازی کے ذریعہ سستے داموں میں فروخت کرتی ہے؛ البتہ قرعہ اندازی میں حصہ لینے والوں کا کچھ خاص شرائط پر پورا اترنا ضروری ہوتا ہے، اس میں بھی قرعہ اندازی میں جس کا نام نکلتا ہے، وہ ازروئے قانون ایک متعینہ مدت تک مکان فروخت نہیں کرسکتا، اس طرز پرمکانات کی خرید و فروخت میں بھی چندمسائل پیش آتے ہیں:

الف- کیاحکومت کی طرف سے بطور تعاون کم قیمت میں فروخت کئے ہوئے ایسے مکان کے مالک کا حکومت کی طرف سے متعینہ مدت سے پہلے اس مکان کو فروخت کردینا اور دوسرے شخص کا جانتے بوجھتے اس سے خریدنا درست ہوگا؟

ب- بعض حضرات ان مکانات کی خریداری کی شرائط پر پورے نہیں اترتے مگر فرضی کاغذات، اور سرکاری افسران کو رشوت دے کر مکان خرید لیتے ہیں، کیا یہ عمل درست ہوگا؟

ج- ایسے مکانات میں معذورین کے لئے بھی کوئی حصہ مختص ہوتا ہے، اب اگر غیر معذور ،معذور شخص کے ڈاکیومنٹ(کاغذات) کی بنیاد پر یہ مکان خریدے اور معذور شخص کو اس کے کاغذات استعمال کرنے پر پہلے سے متعین کردہ رقم یا خوشی سے کچھ دے دے تو کیا معذور شخص کے لئے اس رقم کا لینا جائز ہوگا؟ نیز اس طرح خود اس کے مکان خریدنے کا کیا حکم ہوگا؟

د- ان مکانات کی خرید کے لئے کاغذی کاروائی میں دلالوں کا اہم رول ہوتا ہے، ان کے بغیر کام ہونا بہت مشکل ہوتا ہے، تو کیا ان کے لئے اس کام کی دلالی لینا جائز ہوگا؟

۳- بلڈر اپنی زمین پر بلڈنگ بنا کر فلیٹ فروخت کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو فلیٹ کی تمام تفصیلات رقبہ، میٹریل کا معیار، سہولتیں وغیرہ واضح کردیتا ہے، اور بلڈنگ کھڑی کرنے سے پہلے ہی کاغذی نقشہ کی بنیاد پر فلیٹ فروخت کرتا ہے، اور لوگ خرید بھی لیتے ہیں، اس طرح کے لین دین میں چند مسائل پیش آتے ہیں:

الف- بلڈر کے لئے اس طرح مکان بنائے بغیر اسے بیچنا کیا بیع استصناع کے دائرہ میں آئے گا اوراس کے لئے مبیع کے وجود میں آنے سے پہلے اس کو فروخت کرنا درست ہوگا؟

ب- اگر یہ صورت جائز ہے تو کیا خریدار کے لئے مکان کی تعمیر ہوئے بغیر آگے کسی اور کو بیچنا جائز ہوگا؟نیز خریدار نے دسویں منزل پر فلیٹ بک کرایا ہے اور تعمیری کام آٹھویں منزل تک پہنچا ہے تو کیا وہ دسویں منزل کا فلیٹ فروخت کرسکتا ہے؟

ج- جس منزل پر فلیٹ بک کرایا ہے، اس کی چہار دیواری کھڑی ہوگئی ہے، چھت بھی پڑ گئی ہے؛ لیکن دیواریں نہیں اٹھی ہیں اور مکان کی شکل نہیں بنی ہے تو کیا اس کو فروخت کرسکتا ہے؟

د- کبھی ایسا ہوتا ہے کہ بلڈر مکان کے خریداروں سے اچھی خاصی رقم وصول کرنے کے طویل عرصہ بعد -واقعی عذر کی وجہ سے کہ بلڈنگ کے سلسلہ میں قانونی تقاضے پورے نہیں ہوپارہے ہیں، اور کبھی بددیانتی کی وجہ سے کہ اب قیمت بہت بڑھ چکی ہوتی ہے - ان کو مکان نہ دے کر دوسروں کو زیادہ قیمت میں بیچنا چاہتا ہے، اور خریداروں سے معذرت کرتا ہے کہ اب بلڈنگ نہیں بن سکے گی تو کیا ایسی صورت میں خریداروں کے لئے بلڈر سے اس کو دی ہوئی رقم سے زیادہ وصول کرنا درست ہوگا؟ اس میں خریداروں کو غیر معمولی نقصان ہوجاتا ہے کہ ایک لمبی مدت تک بائع نے رقم پھنسا کر رکھی اور اتنی تاخیر سے لوٹائی کہ اب اِس رقم کے عوض اُس علاقہ میں فلیٹ خریدنا ممکن نہیں رہاتو یہاں خریدار کو خسارہ سے بچانے کی کیا صورت اختیار کی جاسکتی ہے؟

ھ- بعض مرتبہ بلڈر وقت متعینہ پر بلڈنگ نہیں بناتا ؛بلکہ سال دو سال اور کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ تاخیرکردیتا ہے، اگر خریدار نے خود رہائش کے لئے مکان خرید کیا تھا ، تو تاخیر کی وجہ سے اس کو اتنی طویل مدت کرایۂ مکان ادا کرنا ہوگا، جو شہروں میں اچھا خاصا ہوتا ہے، اور اگر سرمایہ کاری کے ارادے سے خرید کیا ہوگا تو اتنی مدت وہ اپنے سرمایہ پر کسی بھی نفع سے محروم رہے گا تو ایسی صورت میں سرمایہ کاروںکا نقصان ہوتا ہے، یہاں ان کو کس طرح خسارہ سے بچایاجاسکتا ہے؟

۴- بعض دفعہ بلڈر جن لوگوں سے مکان فروخت کرتا ہے، جب حوالگی کی مقررہ مدت مکمل ہوجاتی ہے اور وہ مکان تیار نہیں کر پاتا تو وہ خود خریداروں سے کہتا ہے کہ اب میں تم سے اس مکان کو کرایہ پر لیتا ہوں، جب تک میں آپ کو حوالہ نہ کردوں، میری حیثیت آپ کے کرایہ دار کی ہوگی اور میں مقررہ اجرت ادا کرتا رہوں گا، اس کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں:

الف- ابھی مکان کی تعمیر شروع ہی نہیں ہوئی۔

ب- مکان کی تعمیر ناقص ہو، یعنی ابھی قابل رہائش نہ ہواہو۔

ج- مکان کی تعمیر ایک حد تک مکمل ہوگئی ہو؛لیکن جوتفصیلات طے پائی تھیں ،ان کے مطابق نہیں بن سکاہو،تو کیا اس صورت میں اس کے لئے کرایہ لینا درست ہوگا؟

۵- ایک صورت یہ ہے کہ ایک عادم آدمی یا کوئی ایجنٹ بلڈر سے فلیٹ خریدلیتا ہے لیکن کاغذ اپنے نام نہیں بنواتا ہے بلکہ ایک دوسرے گاہک سے اس فلیٹ کو فروخت کردیتا ہے اور اس بلڈر سے کہتا ہے کہ کاغذ اس گاہک کے نام بنا دو، اس طرح وہ اپنے نام کاغذ نہ بنوا کر اور براہ راست گاہک کے نام رجسٹری کرا کے سرکاری ٹیکس سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے ، تو کیا ایسا کرنا جائز ہوگا؟

٭٭٭

 

بسم اللہ الرحمن الرحیم

سوالنامہ

طلاق اور اس سے پیدا ہونے والے سماجی مسائل

 

انسان کو اللہ تعالی نے جو امتیازات عطافرمائے ہیں، اس میں ایک خاندان بھی ہے، والدین کے نکاح کے ذریعہ دادیہال اور نانیہال نیز خود اپنے نکاح کے ذریعہ سسرال وجود میں آتا ہے، ان تینوں خاندانوں کے ذریعہ انسان کو رشتہ داروں کا ایک بڑا حلقہ حاصل ہوتا ہے، جو مصیبتوں میں کام آتا ہے، جن کی دلداری سے غم انگیز حالات میں دل کا بوجھ کم ہوتا ہے، اور خوشی کے مواقع پر خوشیاں دوبالا ہوجاتی ہیں، اگر آپس میں اختلاف ہوتو سب لوگ مل کر اس کو رفع دفع کرنے کی کوشش کرتے ہیں، آئندہ نسلوں کا رشتہ طے کرنے میں سہولت ہوتی ہے، اسی لئے قرآن مجید نے خاندان کو ایک نعمت قرار دیا ہے، اور اپنے جن احسانات کو شمار کرایا ہے، اس میں ایک خاندان کا وجود بھی ہے (الفرقان:۵۴)۔

خاندانی نظام کا استحکام بے حد اہم ہے اور خاندان کا ٹوٹ اور بکھر جانااسی قدر نقصان دہ ہے ، موجودہ مغربی تہذیب نے شخصی آزادی کے تصور کو اتنی وسعت دے دی کہ افراد پر خاندان کی گرفت کمزور ہوگئی، خاص کر طلاق کے واقعات بہت بڑھ گئے، اور اب خود مغربی معاشرہ اس نقصان کو محسوس کر رہا ہے؛ لیکن اب وہ اتنی دور جاچکا ہے کہ اس کی واپسی دشوار ہے، اس پس منظر میں کچھ اہم سوالات پیش خدمت ہیں:

۱- آج کل لڑکے اور لڑکیاں اپنی پسند کے رشتے کرنا چاہتے ہیں، ایک طرف بعض اوقات وہ والدین کی مرضی اور ان کے مشورہ کو بالکل ہی نظر انداز کردیتے ہیں، دوسری طرف بعض والدین بچوں کے لئے ایسے رشتوں کا انتخاب کرتے ہیں،جوخود ان کے انتخاب کے بالکل ہی برخلاف ہوتے ہیں، اس سلسلے میں صحیح رویہ کیا ہے؟ کیا شرعا رشتہ نکاح کے معاملے میں لڑکوں اور لڑکیوں کو ان کے والدین کی مرضی قبول کرنا واجب ہے؟ اگر وہ ایسا نہ کریں گے تو کیا وہ گنہگار ہوں گے؟۔

۲- طلاق کے واقعات میں بہت سی دفعہ والدین کا اصرار بھی شامل ہوتا ہے، تو کیا ماں باپ کے لئے یہ بات جائز ہے کہ وہ بہو کوناپسند کرنے کی وجہ سے بیٹے کو مجبور کریں کہ وہ اپنی بیوی کو طلاق دے دے، اور کیا بیٹے پر اپنے ماں باپ کی اس بات کو ماننا ضروری ہے؟

۳- اس وقت عدالتوں سے مطلقہ کے لئے نفقہ کا فیصلہ ہورہا ہے، ظاہر ہے کہ شرعی نقطہ نظر سے صرف عدت ہی کا نفقہ سابق شوہر پر واجب ہوتا ہے، توکیامطلقہ کے لئے بعد از عدت نفقہ کے لئے عدالت سے رجوع کرنا شرعا درست ہے؟اور اگر کسی مسلمان عورت کے حق میں عدالت کی طرف سے اس طرح کا فیصلہ ہوجائے تو عورت کے لئے سابق شوہر کی طرف سے ہدیہ یا گورنمنٹ کی طرف سے اعانت سمجھ کرعدالت کی مقرر کردہ رقم قبول کرنے کی گنجائش ہوگی؟ اور کیا اس سلسلہ میں بے سہارا مطلقہ اور اس مطلقہ کے حق میں کوئی فرق ہوگا، جس کے نفقہ کا انتظام اس کے خاندان کے لوگ کر رہے ہوں؟

۴- اگر کسی عورت کو طلاق ہوگئی ہو تو اس کا دوسرا نکاح کرانے کی ذمہ داری کن لوگوں پر ہوگی؟ کیونکہ یوں تو نکاح میں کسی بڑے خرچ کی ضرورت نہیں؛ لیکن معاشرے کی بگاڑ کی وجہ سے عملی صورت حال یہ ہے کہ کثیر اخراجات کے بغیر لڑکیوں کی شادی نہیں ہوپاتی؛ چہ جائے کہ ایک مطلقہ عورت کی ۔

۵- بعض دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ طلاق کے بعد عورت اپنی معاشی ضروریات کے لئے مجبور ہوجاتی ہے، پھر اسے ہی اپنے بچوں کا بوجھ اٹھانا پڑتا ہے؛ اس لئے اس کی وضاحت کی جائے کہ مطلقہ عورتوں کا نفقہ کن رشتہ داروں پر واجب ہوگا؟ اور اگر وہ نفقہ ادا نہیں کر رہا ہے تو اب اس کی گذر اوقات کی کیا صورت ہوگی؟

۶- شرعا کن حالات میں کس عورت کو طلاق دینا جائز ہے؟ خاص کر ہندوستان کے پس منظر میں اس کی وضاحت فرمائیں؛ کیونکہ اسلامی تعلیمات سے دوری ،لڑکیوں کا رشتہ حاصل کرنے میں مشکلات، شادی کی گراں باری ،شرعی طریقے پر نزاعات کے حل کرنے والے اداروں کی قوت تنفیذ سے محرومی اور مطلقہ عورتوں کی بے سہارا زندگی کی وجہ سے فتنہ کے اندیشوں نے یہاں کے حالات کو قدیم مسلم معاشرہ اور عرب ممالک کے حالات سے بہت مختلف بنا دیا ہے۔

۷- تین طلاق کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں: ایک یہ کہ تین کے عدد کی صراحت کے ساتھ طلاق دی جائے، اس سلسلے میں جمہور کا نقطہ نظر یہ ہے کہ تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی، دوسری صورت یہ ہے کہ لفظ طلاق یا جملہ طلاق کی تکرار ہو، اس صورت میں اگر مرد اقرار کرتا ہے کہ وہ تین طلاق ہی دینا چاہتا تھا، تب تو تینوں طلاقیں واقع ہوجائیں گی، لیکن اگر وہ کہتا ہے کہ میرا مقصد ایک ہی طلاق دینا ہے، دوسری اور تیسری بار میں نے تاکیدا کہا ہے، یا میں نے سمجھا تھا کہ تین بار کہنے سے ہی طلاق واقع ہوتی ہیں؛ مگر میرا ارادہ تین طلاق دینے کا نہیں تھا، تو اس صورت میں بعض فقہاء کے یہاں مطلقا اس کی نیت کا اعتبار ہوگا، اور احناف کے یہاں قول دیانت اور قول قضا کا فرق کیا گیا ہے،فی الحال بعض اہل افتاء قول دیانت پر فتوی دیتے ہیں، اور بعض قول قضا پر، اس مسئلہ میں کون سا نقطہ نظر زیادہ درست ہے؟

اس سلسلہ میں فقہاء کا ایک قول ‘‘المرأۃ کالقاضی’’ بھی پیش کیاجاتا ہے، نصوص شرعیہ میں اس کی کیا بنیاد ہے؟ کیا یہ صاحب مذہب اور ان کے اصحاب کا قول ہے؟ یا متقدمین کا؟ یا متأخرین کا؟ اوراس ضابطہ فقہیہ کا منشا کیا ہے؟

۸-   کبھی کبھی یہ صورت بھی پیش آتی ہے کہ الفاظ طلاق کے تکرار کی صورت میں جب طلاق دینے والے سے یہ پوچھاجاتا ہے کہ دوسری اور تیسری بار بولے گئے الفاظ سے تمہاری نیت پہلے والی طلاق کو موکد کرنا تھا یا مزید دو طلاقیں دینی تھیں تو وہ کہتا ہے کہ میری کوئی نیت نہیں تھی، ایسی صورت میں کیا حکم ہوگا اور کتنی طلاقیں پڑیں گی؟

٭٭٭